نئی دہلی26جون ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) مرکزی سماجی انصاف اور امپاورمنٹ وزیر تھاور چند گہلوت نے کہا کہ ایس سی ایس ٹی قانون پر سپریم کورٹ کی جانب سے دوستانہ فیصلہ نہیں آیا تو پارلیمنٹ اور آرڈیننس کا اختیار کھلا ہوا ہے۔ وزیر نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ 18 جولائی سے شروع ہو رہے پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں پسماندہ کمیشن کو آئینی درجہ دینے سے متعلق بل کو منظور کرا لیا جائے گا۔ان کی وزارت کی گزشتہ چار سال کی کامیابیوں کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے گہلوت نے کہا کہ نریندر مودی حکومت ’وکاس‘ میں ریزرویشن کے حق میں ہیں اور امید ہے کہ اس تناظر میں بھی عدالت کا فیصلہ توقع کے مطابق رہے گا۔ ایس سی۔ایس ٹی قانون کو لے کر عدالت کے فیصلے کے تناظر میں انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی ہے۔ امید ہے کہ عدالت اس بارے میں موزوں فیصلہ دے گی۔لیکن اگر فیصلہ موزوں نہیں رہا تو ہمارے پاس پارلیمنٹ اور آرڈیننس کا اختیار کھلا ہوا ہے۔ حکومت نظریاتی طور پر اس پر اتفاق کرتی ہے ۔غور طلب ہے کہ مارچ مہینے میں عدالت نے ایک فیصلے میں ایس سی۔ایس ٹی قانون کے تحت درج مقدمات میں بغیر تحقیقات کی گرفتاری پر روک لگائی تھی۔ اس فیصلے کی مخالفت میں دو اپریل کو دلت تنظیموں نے بند کا اعلان کیا تھا۔ اس دوران بعض مقامات پر تشدد بھی پیش آیا تھاجس میں کئی لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔